احمد فراز... احمد فراز کي شاعري ميں فارسي اور اردو کلاسيکي شاعري کي تمام ترلطيف روايات کا تسلسل ملتا ہے، جس ميں غم جاناں کي رومان انگيزي بھي ہے...
http://ammar.fuzedbulb.com/wp-content/uploads/2008/08/faraz_1a.jpg احمد فراز کی پیدائش 14/جنوری سنہ1931 کو نوشہرہ 'صوبہ سرحد' میں ہوئی تھی۔ ان کے...
دل بھی بُجھا ہو شام کی پر چھائیاں بھی ہوں مر جائیے جو ایسے میں تنہائیاں بھی ہوں آنکھوں کی سرخ لہر ہے موج ِ سپردگی یہ کیا ضرور ہے کہ اب انگڑائیاں...
ہمدرد اے دل ان آنکھوں پر نہ جا جن میں وفور ِ رنج سے کچھ دیر کو تیرے لیئے آنسو اگر لہرا گئے یہ چند لمحوں کی چمک جو تجھ کو پاگل کر گئی
کیا ایسے کم سُخن سے کوئی گفتگو کرے جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے اب تو ہمیں بھی ترکِ مراسم کا دُکھ نہیں پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تو کرے ...
بارہا مجھ سے کہا دل نے کہ اے شعبدہ گر تو کہ الفاظ سے اصنام گری کرتا ہے کبھی اس حسن ِ دل آرا کی بھی تصویر بنا جو تیری سوچ کے خاکوں میں لہو بھرتا ہے...
پتھر کی طرح اگر میں چپ رہوں تو یہ نہ سمجھ کہ میری ہستی بیگانہ ء شعلہ ِ وفا ہے تحقیر سے یوں نہ دیکھ مجھ کو اے سنگ تراش!تیرا تیشہ ممکن ہے کہ ضرب ِ...
قربتوں میں بھی جدائی کے زمانے مانگے دل وہ بے مہر کہ رونے کے بہانے مانگے ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے خلقت ِ شہر تو رونے کے بہانے مانگے ...
راتیں ہیں اداس دن کڑے ہیں اے دل ترے حوصلے بڑے ہیں اے یاد ِ حبیب ساتھ دینا کچھ مرحلے سخت آ پڑے ہیں رُکنا ہو اگر تو سَو بہانے جانا ہو تو راستے...
کچھ نہ کسی سے بولیں گے تنہائی میں رو لیں گے ہم بے راہ رووں کا کیا ساتھ کسی کے ہو لیں گے خود تو ہوئے رُسوا لیکن تیرے بھید نہ کھولیں گے ...
کیا رخصت یار کی گھڑی تھی ہنستی ہوئی رات رو پڑی تھی ہم خود ہی ہوئے تباہ ورنہ دنیا کو ہماری کیا پڑی تھی یہ زخم ہیں اُن دنوں کی یادیں جب آپ سے...
وہی عشق جو تھا کبھی جنوں اسے روزگار بنا دیا کہیں زخم بیچ میں آگئے کہیں شعر کوئی سُنا دیا وہی ہم کہ جن کو عزیز تھی در ِ آبرو کی چمک دمک یہی ہم کہ...
بے نیازانہ ہمیشہ کی طرح ملتا ہے اہل ِ دل سے بھی وہ دنیا کی طرح ملتا ہے کوچہ ء یار میں حیراں ہوں کہ کس کو دیکھوں ہر کوئی نقش ِ کف ِ پا کی طرح...
سوچ کے پھیلے صحراؤں میں آگ سے دن اور برف سی راتیں کاٹ کے بھی جب ہاتھ نہ آئیں لفظ بھی آہو لگتے ہیں جب دل درد کے ویرانوں میں ریزہ ریزہ چن کر...
جاؤ کہ مجھے یقین نہیں ہے تم اب کے گئے تو آ سکو گے دھلیز سے اَک قدم اُتر کر وہ راہ گزار منتظر ہے جِس پر جو کوئی چلا گیا ہے قدموں کے نشاں بچھا گیا...
میں نے کہا تھا دل کے سفر میں یُوں تو بہت سی منزلیں ہیں لیکن جاناں تم سے آگے کوئی نہیں آج مگر مجبور ِ سفر ہوں
وہ کیسا شعبدہ گر تھا جو مصنوعی ستاروں اور نقلی سورجوں کی ایک جھلک دکھلا کے میرے سادہ دل لوگوں کی آنکھوں کے دئیے ہونٹوں کے جگنو لے گیا اور اب...
بھول جائیں تو آج بہتر ہے سِلسلے قرب کے جدائی کے بُجھ چکی خواہشوں کی قندیلیں لُٹ چکے شہر آشنائی کے رائیگاں ساعتوں سے کیا لینا زخم ہوں پھول ہوں...
میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا قرعہ ء فال مرے نام کا اکثر نکلا تھا جنہیں زعم وہ دریا بھی مجھی...
میری افسردگی سے پریشاں نہ ہو تو مری تلخیوں کا سبب تو نہیں تیری آنکھیں تو میری ہی دمساز ہیں تھیں کبھی اجنبی لیکن اب تو نہیں تجھ کو میری مسرت مقدم...
Use this control to limit the display of threads to those newer than the specified time frame.
Allows you to choose the data by which the thread list will be sorted.
Order threads in...
Note: when sorting by date, 'descending order' will show the newest results first.
Forum Rules