کچھ لوگ بہت یاد آتے ہیں جو دور افق پر رہتے ہیں وہ لوگ جو میرے اپنے تھے کیوں ہنستے ہنستے روٹھ گئے تڑپاتے ہیں سسکاتے ہیں
یہ سوچ کر پھولوں کو اب چنتا نہیں کوئی جذبوں کو احتیاط سے رکھتا نہیں کوئی غم بانٹنے کی آس پہ رہنا نہ دوستو اوروںکی آگ میںیہاں جلتا نہیں...
کسی طرح سے بھی جیون گزارنا ہوگا بچھڑ گیا ہے جو اس کو پکارنا ہوگا ہم اپنے عہد پہ قائم ہیں آج بھی جاناں کہ وقت جیسے بھی گزرے، گزارنا...
اک اک زخم دکھاؤں تم کو آؤ تو کیسے گزرے شام و سحر تم دیکھو تو ہنستے گاتے لوگوں کی اس دنیا میں ہم کیوں اتنے چپ رہتے ہیں سوچو تو اک اک کرکے سارے...
اُس نے کہا کہ راحتیں؟ میں نے کہا کہ قربتیں! اُس نے کہا‘ جدائیاں؟ میں نے کہا‘ قیامتیں! اُس نے کہا کہ دوریاں؟ میں نے کہا کہ...
کہا اُس نے محبت میں یہ غم کیوں ساتھ ملتے ہیں کہا میں نے یہ کانٹے پھول بھی تو ساتھ پلتے ہیں کہااس نے کہ لمحے پیارکے کیوں کم سے ہوتے ہیں کہا میں نے...
یہ دل مفلوج ہو کر رہ گیا ہے نجانے آج وہ کیا کہہ گیا ہے یہ آنکھیں ہیں ہماری کتنی گہری سمندر کا سمندر بہہ گیا ہے تمہارے ساتھ وابستہ ہے سب...
دسمبر کے حسیں دن تھے مَری کی یخ فضاؤں میں ہمارے چار ہاتھوں نے Snow Man اک بنایا تھا کہا تھا ایک دوجے کو
کہا تم نے! ’’ڈھلکتی شام سے اور‘ ڈوبتے سورج کی کرنوں سے مجھے گہری محبت ہے‘‘ تو آؤ! دیکھ لو‘ جاناں! یہ سب منظر ہماری روح تک میں رچ گئے ہیں...
کوئی شعلہ اُٹھا ہے اس دل میں اک دیا سا جلا ہے اس دل میں ڈر ہے‘ آنکھیں نہ پھر چھلک جائیں اک کانٹا چبھا ہے اس دل میں جس کے سارے مکان خالی ہیں شہر...
کہاں اے دوست چلتے جا رہے ہو بہت آگے نکلتے جا رہے ہو چلے جاؤ مگر یہ تو بتا دو! یہ رستے کیوں بدلتے جا رہے ہو؟ دلوں کو عشق کی سولی...
تجھے سوچتے ہیں گلابوں کو لے کر خیالوں میں کتنے سرابوں کو لے کر تری آنکھ میںڈوب جانے سے پہلے بہت سوچتے ہیں شرابوں کو لے کر مجھے...
تم ایک بار مجھے پیار کی نظر دیکھو تو پھر روا ہے کہ مجھ کو نہ عمر بھر دیکھو تُو میرے ساتھ کبھی جن سے بارہا گزرا کبھی تو آکے وہ سنسان رہگزر دیکھو...
تو دیکھو، دیکھ لو آکر! مری آنکھوں کو دیکھو تم یہ کتنی شوخ لگتی ہیں مرے ہونٹوں کو دیکھو تم ہمیشہ مسکراتے ہیں کوئی بھی غم اگر آیا اسے ہنس کر سہا میں...
کہا اُس نے کہ پورا چاند کتنا خوبصورت ہے کہا میں نے کہ میں اکثر تری تصویرتکتا ہوں کہا اس نے مرا یہ روپ دیکھو چاندنی جیسا کہا پھر سامنے ڈھلتی ہوئی...
ہر دکھ میں ساتھ ساتھ تھے غمخوار راستے کیوں آج ہم سے ہوگئے بیزار راستے رک کر اسے پیام یہ دینا ذرا صبا! رہتے ہیں اس کی چاہ میں بیدار...
عشق میں بدحواس ہو جیسے کوئی بادل کے پاس ہو جیسے نام کیسا زباں پہ آیا ہے برسوں برسوں کی پیاس ہو جیسے یوں صبا سے کلام کرتا ہوں تو حقیقت میں پاس ہو...
وہ سورج تھا ستارا ہو گیا ناں جدائی کا اشارہ ہو گیا ناں سکھایا تھا جسے دنیا میں جینا وہی دنیا کو پیارا ہو گیا ناں کہا بھی تھا محبت تم نہ کرنا...
مت پکارو ہمیں زندگی دیکھ کر آنکھ بھر آتی ہے اب خوشی دیکھ کر دیکھ لے‘ میں نے دامن بھی تر کرلیا تیری آنکھوں میں تھوڑی نمی دیکھ کر جس کوچہروںکے...
کاش تُو بھی کبھی خطا کرتا قرض میں کچھ ترا ادا کرتا مجھ سے مانگا ہے چاہتوں کا ثبوت دل دھڑکتا تو، تُو سنا کرتا دل دُکھوں کی دکان لگتا ہے ایک ہوتا...
Use this control to limit the display of threads to those newer than the specified time frame.
Allows you to choose the data by which the thread list will be sorted.
Order threads in...
Note: when sorting by date, 'descending order' will show the newest results first.
Forum Rules