نے الماری کھولی تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں کیونکہ الماری میں ایک خاردار کوڑے کے ساتھ ساتھ تیز دھار خنجر اور ٹارچنگ کے اور بہت سے آلات موجود تھے۔ جولیا سمجھ گئی کہ یہ کمرہ ہیڈ کوارٹر کا ٹارچنگ روم ہے۔ اس نے ایک خنجر اٹھایا اور الماری بند کر کے وہ واپس اس کرسی تک پہنچی جس پر اینڈریو بے ہوشی کے عالم میں بندھا ہوا موجود تھا۔ جولیا نے خنجر نیچے فرش پر رکھا اور پھر دونوں ہاتھوں سے اینڈریو کا ناک اور منہ بند کردیا۔ چند لمحوں بعد جب اینڈریو کے جسم میں حرکت کے تاثرات نمودار ہونا شروع ہوگئے تو جولیا نے ہاتھ اٹھا لئے اور جھک کر خنجر اٹھایا اور پھر سیدھی کھڑی ہوگئی۔
تم۔ تم۔ کیا مطلب۔ تم نے رسیاں کھول لیں۔ اینڈریو نے ہوش میں آتے ہی انتہائی حیرت بھرے لہجے میں کہا۔
تاکہ تمہیں یقین دلایا جاسکے کہ میں واقعی پاکیشیا ایجنٹ ہوں۔ ۔ ۔ جولیا نے جواب دیا۔
یہ کیسے ممکن ہے۔ نہیں۔ بندھا ہوا آدمی تو رسیاں کھول ہی نہیں سکتا۔ تم نے کیسے کھول لی ہیں۔ ۔ ۔ اینڈریو کو اب یقین نہ آرہا تھا اس لئے وہ بڑبڑانے کے سے انداز میں بولا تھا۔
تم بتاؤ اینڈریو کے راستے کی تفصیل کیا ہے۔ ۔ ۔ جولیا نے کہا۔
راستہ کون سا راستہ۔ ۔ ۔ اینڈریو نے چونک کر پوچھا۔
میںنے تمہاری فون پر گفتگو سن لی ہے۔ تمہارے باس نے حکم دیا ہے کہ تم مجھے بے ہوش کرکے اسکے پاس لے جاؤ اور وہ راستہ کھول رہاہے اور تم نے پہلے خود بتایا تھا کہ وہ ہیڈکوارٹر سے علیحدہ رہتا ہے اور درمیانی راستہ بھی وہ خود ہی کھولتا ہے اور اس نے جس طرح تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ تم مجھے وہاں لے جاؤ۔
اس سے اس بات کا بھی مجھے علم ہو چکا ہے کہ یہاں ہیڈکوارٹر میں تم اکیلے رہتے ہو۔ ۔ ۔ جولیا نے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا۔
تم کیا چاہتی ہو۔ ۔ ۔ اینڈریو نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا۔
میں تمہارے باس سے ملنا چاہتی ہوں اور اسے سمجھانا چاہتی ہوں کہ وہ لالچ نہ کرے ورنہ یہ لالچ اسے مہنگا پڑے گا۔ ۔ ۔ جولیا نے کہا۔
تم مجھے آزاد کردو۔ میں تمہیں ساتھ لے جاؤں گا۔ میرا وعدہ کہ میں تمہیں بے ہوش نہیں کروں گا۔ ۔ ۔ اینڈریو نے کہا۔
پہلے تم راستے کی تفصیل بتاؤ اور یہ بھی بتاؤ کہ یہاں سے کیلارڈ تک پہنچتے ہوئے کتنے افراد راستے میں موجود ہوںگے۔ ۔ ۔ جولیا نے کہا۔
نہیں۔ تمہیں تفصیل نہیں بتائی جا سکتی البتہ تمہیں ساتھ لے جا یا جاسکتا ہے۔ ۔ ۔ اینڈریو نے سپاٹ لہجے میں کہا لیکن دوسرے لمحے جولیا کا ہاتھ حرکت میں آیا اور اس کے ساتھ ہی کمرہ اینڈریو کے حلق سے نکلنے والی بھیانک چیخ سے گونج اٹھا۔ جولیا نے ایک لمحے میں اس کی ایک آنکھ کا ڈھیلا خنجر کی نوک سے کاٹ دیا تھا۔ اینڈریو بے اختیار دائیں بائیں سر مارنے لگا تھا اور ساتھ ساتھ چیخ بھی رہا تھا۔
اب دوسری آنکھ کی باری ہے اور تم جانتے ہو کہ اندھے کو کوئی ہیڈ کوارٹر کا انچارج نہیں بناتا۔ ۔ ۔ جولیا نے انتہائی سرد لہجے میں کہا۔
مت اندھا کرو مجھے۔ میں بتادیتا ہوں۔ مجھے مت مارو۔ میں باس کے حکم پر مجبور تھا ورنہ میں تو خود تمہارے اغوا کے خلاف تھا۔ ۔ ۔ اینڈریو نے کراہتے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے۔ اگر تم سب کچھ درست بتادوگے تو نہ صرف تم زندہ رہو گے بلکہ اندھے بھی نہ کئے جاؤ گے ورنہ راستہ تو میں خود بھی تلاش کرسکتی ہوں۔ ۔ ۔ جولیا نے سرد لہجے میں کہا تو اینڈریو نے اس طرح تفصیل بتانی شروع کردی جیسے ٹیپ ریکارڈ آن ہوتا ہے۔ جولیا اس سے سوالات کرتی رہی اور جب جولیا نے سمجھ لیا کہ اب مزید کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں رہی تو اس کا خنجر والا ہاتھ ایک بار پھر حرکت میں آیا اور دوسرے لمحے خنجر اینڈریو کی شہ رگ میں دستے تک اترتا چلا گیا۔ اینڈریو کے منہ سے خرخراہٹ کی آوازیں نکلنے لگیں۔ جولیا تیزی سے مڑی اور اس نے دروازے کے قریب دیوار کے ساتھ رکھی ہوئی مشین گن اٹھائی اور پھر دروازہ کھول کر باہر راہداری میں آگئی۔ اس نے مڑ کر اینڈریو کی طرف دیکھا بھی نہ تھاکیونکہ اسے معلوم تھا کہ اینڈریو کی ہلاکت یقینی ہے۔ تھوڑی دیر بعد وہ اس دروازے تک پہنچ گئی جس پرسبز رنگ کا بلب جل رہا تھا اور دروازہ کھلا ہوا تھا۔ دوسری طرف راہداری تھی۔ جولیا آگے بڑھتی چلی گئی۔ راہداری کا اختتام ایک دروازے پر ہو رہا تھا جو بند تھا اور اس کے اوپر بھی سبز رنگ کا بلب جل رہا تھا۔ جولیا چونکہ پہلے ہی تمام تفصیل معلوم کر چکی تھی اس لئے اسے معلوم تھا کہ اس دروازے کی دوسری طرف راہداری ہے جس کے اختتام پر کیلارڈ کا آفس ہے۔ وہ دروازہ کھول کر راہداری میں داخل ہوئی اور پھر