+ Reply to Thread
Page 11 of 11 FirstFirst ... 9 10 11
Results 101 to 103 of 103

Thread: (سی ٹاپ (عمران سیریز کا ایک مکمل ناول

  1. #101
    Senior Member paakmind is on a distinguished road
    Join Date
    Jun 2010
    Posts
    628

    (سی ٹاپ (عمران سیریز کا ایک مکمل ناول

    نے الماری کھولی تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں کیونکہ الماری میں ایک خاردار کوڑے کے ساتھ ساتھ تیز دھار خنجر اور ٹارچنگ کے اور بہت سے آلات موجود تھے۔ جولیا سمجھ گئی کہ یہ کمرہ ہیڈ کوارٹر کا ٹارچنگ روم ہے۔ اس نے ایک خنجر اٹھایا اور الماری بند کر کے وہ واپس اس کرسی تک پہنچی جس پر اینڈریو بے ہوشی کے عالم میں بندھا ہوا موجود تھا۔ جولیا نے خنجر نیچے فرش پر رکھا اور پھر دونوں ہاتھوں سے اینڈریو کا ناک اور منہ بند کردیا۔ چند لمحوں بعد جب اینڈریو کے جسم میں حرکت کے تاثرات نمودار ہونا شروع ہوگئے تو جولیا نے ہاتھ اٹھا لئے اور جھک کر خنجر اٹھایا اور پھر سیدھی کھڑی ہوگئی۔
    ’’تم۔ تم۔ کیا مطلب۔ تم نے رسیاں کھول لیں‘‘۔ اینڈریو نے ہوش میں آتے ہی انتہائی حیرت بھرے لہجے میں کہا۔
    ’’تاکہ تمہیں یقین دلایا جاسکے کہ میں واقعی پاکیشیا ایجنٹ ہوں‘‘۔ ۔ ۔ جولیا نے جواب دیا۔
    ’’یہ کیسے ممکن ہے۔ نہیں۔ بندھا ہوا آدمی تو رسیاں کھول ہی نہیں سکتا۔ تم نے کیسے کھول لی ہیں‘‘۔ ۔ ۔ اینڈریو کو اب یقین نہ آرہا تھا اس لئے وہ بڑبڑانے کے سے انداز میں بولا تھا۔
    ’’تم بتاؤ اینڈریو کے راستے کی تفصیل کیا ہے‘‘۔ ۔ ۔ جولیا نے کہا۔
    ’’راستہ کون سا راستہ‘‘۔ ۔ ۔ اینڈریو نے چونک کر پوچھا۔
    ’’میںنے تمہاری فون پر گفتگو سن لی ہے۔ تمہارے باس نے حکم دیا ہے کہ تم مجھے بے ہوش کرکے اسکے پاس لے جاؤ اور وہ راستہ کھول رہاہے اور تم نے پہلے خود بتایا تھا کہ وہ ہیڈکوارٹر سے علیحدہ رہتا ہے اور درمیانی راستہ بھی وہ خود ہی کھولتا ہے اور اس نے جس طرح تمہیں یہ حکم دیا ہے کہ تم مجھے وہاں لے جاؤ۔

    اس سے اس بات کا بھی مجھے علم ہو چکا ہے کہ یہاں ہیڈکوارٹر میں تم اکیلے رہتے ہو‘‘۔ ۔ ۔ جولیا نے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا۔
    ’’تم کیا چاہتی ہو‘‘۔ ۔ ۔ اینڈریو نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا۔
    ’’میں تمہارے باس سے ملنا چاہتی ہوں اور اسے سمجھانا چاہتی ہوں کہ وہ لالچ نہ کرے ورنہ یہ لالچ اسے مہنگا پڑے گا‘‘۔ ۔ ۔ جولیا نے کہا۔
    ’’تم مجھے آزاد کردو۔ میں تمہیں ساتھ لے جاؤں گا۔ میرا وعدہ کہ میں تمہیں بے ہوش نہیں کروں گا‘‘۔ ۔ ۔ اینڈریو نے کہا۔
    ’’پہلے تم راستے کی تفصیل بتاؤ اور یہ بھی بتاؤ کہ یہاں سے کیلارڈ تک پہنچتے ہوئے کتنے افراد راستے میں موجود ہوںگے‘‘۔ ۔ ۔ جولیا نے کہا۔
    ’’نہیں۔ تمہیں تفصیل نہیں بتائی جا سکتی البتہ تمہیں ساتھ لے جا یا جاسکتا ہے‘‘۔ ۔ ۔ اینڈریو نے سپاٹ لہجے میں کہا لیکن دوسرے لمحے جولیا کا ہاتھ حرکت میں آیا اور اس کے ساتھ ہی کمرہ اینڈریو کے حلق سے نکلنے والی بھیانک چیخ سے گونج اٹھا۔ جولیا نے ایک لمحے میں اس کی ایک آنکھ کا ڈھیلا خنجر کی نوک سے کاٹ دیا تھا۔ اینڈریو بے اختیار دائیں بائیں سر مارنے لگا تھا اور ساتھ ساتھ چیخ بھی رہا تھا۔
    ’’اب دوسری آنکھ کی باری ہے اور تم جانتے ہو کہ اندھے کو کوئی ہیڈ کوارٹر کا انچارج نہیں بناتا‘‘۔ ۔ ۔ جولیا نے انتہائی سرد لہجے میں کہا۔
    ’’مت اندھا کرو مجھے۔ میں بتادیتا ہوں۔ مجھے مت مارو۔ میں باس کے حکم پر مجبور تھا ورنہ میں تو خود تمہارے اغوا کے خلاف تھا‘‘۔ ۔ ۔ اینڈریو نے کراہتے ہوئے کہا۔
    ’’ٹھیک ہے۔ اگر تم سب کچھ درست بتادوگے تو نہ صرف تم زندہ رہو گے بلکہ اندھے بھی نہ کئے جاؤ گے ورنہ راستہ تو میں خود بھی تلاش کرسکتی ہوں‘‘۔ ۔ ۔ جولیا نے سرد لہجے میں کہا تو اینڈریو نے اس طرح تفصیل بتانی شروع کردی جیسے ٹیپ ریکارڈ آن ہوتا ہے۔ جولیا اس سے سوالات کرتی رہی اور جب جولیا نے سمجھ لیا کہ اب مزید کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں رہی تو اس کا خنجر والا ہاتھ ایک بار پھر حرکت میں آیا اور دوسرے لمحے خنجر اینڈریو کی شہ رگ میں دستے تک اترتا چلا گیا۔ اینڈریو کے منہ سے خرخراہٹ کی آوازیں نکلنے لگیں۔ جولیا تیزی سے مڑی اور اس نے دروازے کے قریب دیوار کے ساتھ رکھی ہوئی مشین گن اٹھائی اور پھر دروازہ کھول کر باہر راہداری میں آگئی۔ اس نے مڑ کر اینڈریو کی طرف دیکھا بھی نہ تھاکیونکہ اسے معلوم تھا کہ اینڈریو کی ہلاکت یقینی ہے۔ تھوڑی دیر بعد وہ اس دروازے تک پہنچ گئی جس پرسبز رنگ کا بلب جل رہا تھا اور دروازہ کھلا ہوا تھا۔ دوسری طرف راہداری تھی۔ جولیا آگے بڑھتی چلی گئی۔ راہداری کا اختتام ایک دروازے پر ہو رہا تھا جو بند تھا اور اس کے اوپر بھی سبز رنگ کا بلب جل رہا تھا۔ جولیا چونکہ پہلے ہی تمام تفصیل معلوم کر چکی تھی اس لئے اسے معلوم تھا کہ اس دروازے کی دوسری طرف راہداری ہے جس کے اختتام پر کیلارڈ کا آفس ہے۔ وہ دروازہ کھول کر راہداری میں داخل ہوئی اور پھر

  2. #102
    Senior Member paakmind is on a distinguished road
    Join Date
    Jun 2010
    Posts
    628

    (سی ٹاپ (عمران سیریز کا ایک مکمل ناول

    بند دروازے کے سامنے جا کر رک گئی۔ اس نے دروازے پر دستک دی۔
    ’’یس کم ان‘‘۔ ۔ ۔ اندر سے ایک مردانہ آواز سنائی دی تو جولیا نے لات مار کر دروازہ کھولا اور اچھل کر اندر داخل ہوگئی۔
    ’’تم۔تم۔ یہ کیا مطلب۔ تم ۔تم‘‘۔ ۔ ۔ میز کے پیچھے بیٹھے ہوئے ادھیڑ عمر آدمی نے یکلخت بوکھلائے ہوئے انداز میں اٹھتے ہوئے کہا۔
    ’’تم لالچی اور وعدہ خلاف آدمی ہو اس لئے تمہیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ تمہارا اینڈریو بھی ہلاک ہو چکا ہے اور اب تم بھی‘‘۔ ۔ ۔ جولیا نے کہا اور اس کے ساتھ ہی اس نے ٹریگر دبا دیا اور حیرت سے بت بنا کھڑا کیلاڈ گولیوں کی باڑکھا کر اچھل کرسی پر گرا اور پھر کرسی سمیت سائیڈ پر جا گرا۔ جولیا تیزی سے میز کی سائیڈ میں گئی اور اس کے ساتھ ہی اس نے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے کیلارڈ پر ایک بار پھر فائر کھول دیا۔
    ’’یہ۔ یہ کیا ہو رہاہے‘‘۔ ۔ ۔ اچانک سائیڈ دروازہ کھلا اور ایک نوجوان نے تیزی سے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا تو جولیا بجلی کی سی تیزی سے گھومی اور دوسرے لمحے اس کی مشین گن کی نال نے گولیاں اگلنا شروع کردیں اوروہ نوجوان چیختا ہوا نیچے گرا اورچند لمحے تڑپنے کے بعد ساکت ہو گیا۔ جولیا چونکہ اینڈریو سے سب کچھ معلوم کر چکی تھی اس لئے اسے معلوم تھا کہ یہ نوجوان کیلارڈ کا پرسنل سیکرٹری تھا اور یہاں ان دونوں کے علاوہ کوئی آدمی نہیں ہے۔اس نے ایک طویل سانس لیا اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتی اس آفس کے عقبی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ وہ اس اڈے کے روڈ پر کھلنے والے خفیہ راستے کے بارے میں پہلے ہی اینڈریو سے معلومات حاصل کرچکی تھی اس لئے اس نے کیلارڈ سے کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی نہ سمجھی تھی۔ اب وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اس راستے کی طرف بڑھی چلی جارہی تھی۔

    کار تیزی سے جاز کلب کی طرف بڑھی چلی جارہی تھی۔ عمران اور اس کے ساتھی کار میں موجود تھے اور وہ سب ماسک میک اپ کر چکے تھے اور مارکیٹ سے انہوں نے اپنے مطلب کا اسلحہ بھی خرید لیا تھا اور اب وہ بلیک سروس کے ہیڈ کوارٹر پر ریڈ کرکے جولیا کو وہاں سے چھڑوانے کے لئے جاز کلب کی طرف بڑھے چلے جارہے تھے۔
    ’’عمران صاحب۔ جولیا نجانے کس پوزیشن میں ہو‘‘۔ ۔ ۔ سائیڈ پر بیٹھے ہوئے صفدرنے کہا۔
    ’’یہ فکر تنویر کو ہونی چاہئے تھے۔ تمہیں تو یہ بات صالحہ کے لئے کرنی چاہئے‘‘۔ ۔ ۔ عمران نے کہا۔
    ’’کیا مطلب ۔ کیا جولیا ہماری ساتھی نہیں ہے‘‘۔ ۔ ۔ صفدر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ’’میری ساتھی ہے۔ تمہاری اور تنویر کی تو وہ ڈپٹی چیف ہے‘‘۔ عمران نے کہا تو صفدر بے اختیار ہنس پڑا۔
    ’’تمہاری یہی خوش فہمیاں تمہارے ساتھ قبر تک جائیں گی۔‘‘
    ’’ہاں‘‘۔ ۔ ۔ تنویرنے قدرے غصیلے لہجے میں کہا تو صفدر ایک بار پھر ہنس پڑا۔
    ’’عمران صاحب۔ ہمیں کیلارڈ سے فون پر بات کرلینی چاہئے تھی‘‘۔ ۔ ۔ اچانک عقب میں بیٹھے ہوئے کیپٹن شکیل نے کہا تو عمران کے ساتھ ساتھ باقی ساتھی بھی بے اختیار چونک پڑے۔
    ’’کیوں‘‘۔ ۔ ۔ عمران نے بھی سنجیدہ لہجے میں کہا۔
    ’’مس جولیا سوئس نژاد ہے۔ انہوںنے لازماً اسے یہ سمجھ کر اغوا کرایا ہے کہ وہ ہماری ساتھی ہوگی اور وہاں ہیڈ کوارٹر میں انہوں نے مس جولیا کا میک اپ صاف کرنے کی کوشش کی ہوگی لیکن ظاہر ہے مس جولیا پاکیشیائی تو نہیں ہے اور یہ بات ان جیسے عام غنڈوں کی سمجھ میں کسی صورت نہیں آسکتی کہ حکومت کسی غیر ملکی کو اپنی ایجنٹ مقرر کرسکتی ہے اس لئے ہو سکتاہے کہ وہ یہی سمجھیں کہ حکومت پاکیشیا اس کے عوض بھاری رقم انہیں نہیں دے گی اور وہ اسے نقصان پہنچا دیں‘‘۔ ۔ ۔ کیپٹن شکیل نے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا۔
    ’’اوہ۔ اوہ۔ ہاں۔ بالکل ٹھیک ہے۔ بالکل ٹھیک ہے۔ ایسا وہ کرسکتے ہیں‘‘۔ ۔ ۔ تنویر نے بے چین لہجے میں کہا۔
    ’’تمہاری بات واقعی درست ہے۔ میرے ذہن میں یہ اینگل ہی نہیں آیا تھا۔ واقعی مجھے اب بات کرنا ہوگی اور کیلارڈ کو یقین دلانا ہوگا کہ جولیا کے عوض اسے منہ مانگی دولت مل سکتی ہے‘‘۔ عمران نے بھی انتہائی سنجیدہ لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا اور صفدر کے چہرے پر بھی انتہائی سنجیدگی کے تاثرات پھیلتے چلے گئے تھے کیونکہ کیپٹن شکیل کی بات درست تھی۔ جو لیا کو اس انداز میں نقصان پہنچ سکتا تھا۔
    ’’یہیں قریب سے فون کرلو۔ اس کام میں دیر نہیں ہونی چاہئے‘‘۔ تنویر نے بے چین سے لہجے میں کہا۔
    ’’اب ہم جاز روڈ پر پہنچ چکے ہیں۔ کلب کے قریب ہی کرلیں گے‘‘۔ ۔ ۔ عمران نے کہا اور پھر تھوڑی دیر بعد انہوں نے جاز کلب کو مار ک کرلیا۔ یہ دومنزلہ عمارت تھی۔ عمران نے کار آگے بڑھائی اور پھر کچھ فاصلے

  3. #103
    Senior Member paakmind is on a distinguished road
    Join Date
    Jun 2010
    Posts
    628

    (سی ٹاپ (عمران سیریز کا ایک مکمل ناول

    پر موجود ریستوران کے سامنے ایک پبلک فون بوتھ کے قریب اس نے کار روک دی اور پھر نیچے اتر کر وہ فون بوتھ کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا کہ یکلخت تیز گڑگڑاہٹ کی آوازیں سنائی دیں اور پھر ایسا خوفناک اور دل دہلا دینے والا زوردار دھماکہ ہوا کہ عمران بے اختیاراچھل کر فون بوتھ سے ٹکرا گیا۔ پھر تو جیسے دھماکوں کا ایک خوفناک سلسلہ شروع ہو گیا۔ عمران بجلی کی سی تیزی سے مڑا اوراس کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئیں۔
    ’’عمران صاحب۔ یہ کیا ہوگیا ہے۔ یہ تو جاز کلب تباہ ہو رہاہے۔ اوہ۔ اوہ‘‘۔ ۔ ۔ صفدر کی چیختی ہوئی آواز سنائی دی۔ وہ سب کارسے باہر آگئے تھے۔
    ’’اوہ میرے خدا۔ یہ کیا ہوگیا‘‘۔ ۔ ۔ عمران کے منہ سے بے اختیار نکلا اور اس کے چہرے پر کرب کی لکیریں سی پھیلتی چلی گئیں۔ اسکے ساتھیوں کے چہرے بھی دھواں دھواں ہو گئے تھے۔ظاہر ہے اتنے بات تو وہ بھی سمجھتے تھے کہ بلیک سروس کا ہیڈ کوارٹر جاز کلب کے نیچے ہے

    اور جاز کلب جس انداز میں تباہ ہو رہا تھا اس سے ہیڈ کوارٹر کیسے بچ سکتا تھا اور جولیا اس ہیڈ کوارٹر میں تھی۔
    ’’یا اللہ رحم کر‘‘۔ ۔ ۔ عمران کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
    ’’یہ۔ یہ کیا ہوگیا۔ مم۔مم۔میں‘‘۔ ۔ ۔ تنویر کے منہ سے رک رک کر الفاظ نکلے لیکن پھر وہ خاموش ہوگیا۔ اس کا چہرہ کرب کی شدت سے بگڑ سا گیا تھا۔ دھماکے ابھی جاری تھے اور ہرطرف افراتفری سی پھیل گئی تھی۔ سڑک پر ٹریفک جام ہو گئی تھی۔ وہاں موجود لوگ دہشت زدہ انداز میں یہ سب کچھ ہوتا دیکھ رہے تھے۔ وہاں سے کچھ فاصلے پر جہاں پہلے جاز کلب تھا اب وہاں سوائے آگ کے پہاڑ جیسے شعلوں اور دھوئیں کے اور کچھ نظر نہ آرہا تھا۔ پھر پولیس کی گاڑیوں کے سائرنوں سے ارد گرد کا علاقہ گونج اٹھا لیکن عمران اور اس کے ساتھی اس طرح بت بنے ساکت و جامد کھڑے تھے۔ انہیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ان کے جسموں میں سرے سے جان ہی نہ رہی ہو۔ ان کے ذہنوں میں بھیانک خلا سا پیدا ہو گیا تھا۔ انہیں یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ان کے دل شدت غم سے پھٹ جائیں گے۔
    ’’اے تم لوگ یہاں موجود ہو‘‘۔ ۔ ۔ اچانک انہیں عقب سے جولیا کی آواز سنائی دی تو وہ سب اس طرح اچھل پڑے کہ جیسے ان کے جسموں سے یکلخت الیکٹرک کرنٹ دوڑ گیا ہواور پھر ساتھ ہی موجود ریستوران کے برآمدے سے انہیں جولیا اتر کر اپنی طرف آتی دکھا ئی دی۔ وہ اپنی اصل شکل میں تھی۔
    ’’تم زندہ ہو‘‘۔ ۔ ۔ عمران سمیت سب کے منہ سے بیک وقت نکلا اور جولیا بے اختیار ہنس پڑی۔
    ’’تو تم کیا سمجھے تھے۔ ویسے میں شاید تمہیں نہ پہچان سکتی لیکن چونکہ تم اکٹھے تھے اس لئے پہچانے گئے‘‘۔ ۔ ۔ جولیا نے قریب آکر مسکراتے ہوئے کہا۔
    ’’اوہ۔ خدایا تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ تو واقعی رحیم و کریم ہے‘‘۔ عمران نے بے اختیار ہو کر کہا اور ایسے ہی الفاظ باقی ساتھیوں کے منہ سے بھی نکلے۔
    ’’ارے ارے۔ تو کیا تم یہی سمجھ رہے تھے کہ میں بھی ہیڈ کوارٹر کے ساتھ ختم ہو گئی ہوں۔ ایسی بات نہیں ہے۔ البتہ یہ ہیڈکوارٹر میں نے ہی تباہ کیا ہے۔ ان لالچی اور وعدہ خلاف لوگوں کو سزا دینے کے لئے ‘‘۔ ۔ ۔ جولیا نے کہا۔
    ’’اوہ۔ تو یہ بات ہے۔ لیکن یہ سب ہوا کیسے‘‘۔ ۔ ۔ عمران نے کہا۔
    ’’یہاں سے چلو۔ پھر تفصیل سے بات ہوگی‘‘۔ ۔ ۔ جولیا نے کہا تو سب نے اثبات میں سر ہلا دئیے۔ ویسے بھی اب وہاں پولیس کی گاڑیاں پہنچنا شروع ہو گئی تھیں اور پھر تھوڑی دیر بعد وہ سب کار میں سوار واپس اپنی رہائش گاہ کی طرف بڑھتے چلے جا رہے تھے جبکہ جولیا مزے لے لے کر ہیڈ کوارٹر میں ہوش میں آنے سے لے کر ہیڈ کوارٹر سے کیلارڈ کے آفس اور پھر وہاں سے باہر آنے کے بارے میں تفصیلات بتا رہی تھی۔
    ’’اور پھر میں نے ریستوران کے اندر ایک پرائیویٹ روم میں بیٹھ کر ڈی چارجر کی مدد سے وہ بم فائر کردیا جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے‘‘۔ ۔ ۔ جولیا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ’’ان کا انجام یہی ہونا چاہئے تھے‘‘۔ ۔ ۔ تنویر نے بے اختیار ہو کر کہا۔
    ’’ہاں۔ کیونکہ جولیا جو وہاں پہنچ چکی تھی‘‘۔ ۔ ۔ عمران نے آہستہ سے کہا تو سب بے اختیار ہنس پڑے اور جولیا غصے سے آنکھیں نکالتی رہ گئی۔٭

    ختم شد

+ Reply to Thread

Posting Permissions

  • You may not post new threads
  • You may not post replies
  • You may not post attachments
  • You may not edit your posts